رم جھم بارش جل تھل رستے رات اکیلی تم اور میں
نیند کا تکیہ، چین کا بستر، چاند کی پہلی، تم اور میں
تتلی، جگنو ،بادل ،جھیلیں بھول بھلیاں، ایک طلسم
بانس، پپیتے، کونج، پپیہے، کوک چھبیلی، تم اور میں
ندیا کنارے خیمے پر ہو ڈاکہ چندن خوشبو کا
دیپ سلگتے، ہونٹ لہکتے، آگ سہیلی تم اور میں
پہروں جھومیں، برسوں ٹہلیں، نبضوں کی موسیقی پر
بربط کی دھن، گم صم چھاگل، لے البیلی، تم اور میں
سبزہ زاروں پر کہرے کی چادر چاروں اور بچھی ہو
اوس کھسکتی، دھند لپکتی، خواب حویلی تم اور میں
جوگ، سنجوگ اور لاگ، لگن،، ہنگام، گمان، کے دریا کے
جیون لیکھے، گورکھ دھندا، اور پہیلی تم اور میں
میں تم اور یہ رنگ بسنتی، قصے ہجر رُتوں کے ہیں
آؤ، کچھ پل مل کے رو لیں، بانجھ چنبیلی تم اور میں
راہ سڑک بھی دیکھ رہی ہے چپ ہے گنگا جنگل بھی
ہنستے گاتے آؤ بچھڑیں، کھیلا کھیلی تم اور میں
سیف خان
No comments:
Post a Comment