ابر برسا یہاں بارش بھی ہوئی دیر تلک
اور اک شمع دریچے میں جلی دیر تلک
اس کو آنا ہے، نہیں وہ آنے والا
ذہن و دل میں بھی یہی بحث رہی دیر تلک
آب وافر بھی میسر ہو مگر بعض اوقات
ساتھ رہتی ہے کوئی تشنہ لبی دیر تلک
سانحہ کیا تھا کہ وہ ڈوبتا سورج ہر روز
دیکھتی رہتی ہے اب چھت پہ کھڑی دیر تلک
ایک پل کے لیے آتا ہے اگر یاد کوئی
آنکھ کا نم نہیں جاتا ہے بڑی دیر تلک
پیڑ تو ساتھ نہیں جانے کے لبنی آصف
سر پہ چھاؤں بھی کسی کے نہ رہی دیر تلک
لبنیٰ آصف
No comments:
Post a Comment