کسی صورت نہ چین آئے تو کیا ہو
تسلی اور تڑپائے تو کیا ہو
عداوت تو عداوت ہے بہر حال
محبت بھی نہ راس آئے تو کیا ہو
وہ سمجھائیں دلاسا دیں منائیں
مگر دل پھر بھی گھبرائے تو کیا ہو
یہ مانا روک دیں ہم چشم تر کو
تبسم خون برسائے تو کیا ہو
زباں کو کاٹ ڈالیں ہونٹ سی لیں
خموشی آہ بن جائے تو کیا ہو
وہ سمجھاتے رہیں اور نا مرادی
گلے سے بڑھ کے لگ جائے تو کیا ہو
دل حساس اور جوش محبت
حباب آندھی سے ٹکرائے تو کیا ہو
وہ پہلو میں سروش اور یہ قیامت
جو وہ پہلو سے اٹھ جائے تو کیا ہو
سروش لکھنوی
No comments:
Post a Comment