Monday, 20 December 2021

کسی صورت نہ چین آئے تو کیا ہو

کسی صورت نہ چین آئے تو کیا ہو

تسلی اور تڑپائے تو کیا ہو

عداوت تو عداوت ہے بہر حال

محبت بھی نہ راس آئے تو کیا ہو

وہ سمجھائیں دلاسا دیں منائیں

مگر دل پھر بھی گھبرائے تو کیا ہو

یہ مانا روک دیں ہم چشم تر کو

تبسم خون برسائے تو کیا ہو

زباں کو کاٹ ڈالیں ہونٹ سی لیں

خموشی آہ بن جائے تو کیا ہو

وہ سمجھاتے رہیں اور نا مرادی

گلے سے بڑھ کے لگ جائے تو کیا ہو

دل حساس اور جوش محبت

حباب آندھی سے ٹکرائے تو کیا ہو

وہ پہلو میں سروش اور یہ قیامت

جو وہ پہلو سے اٹھ جائے تو کیا ہو


سروش لکھنوی

No comments:

Post a Comment