روایتی سا کہانی میں سین آنا ہے
ٹرین رُکنی نہیں، ہاتھ چھُوٹ جانا ہے
ہمارے دستِ گزارش پہ خاک ہی دھر دے
کہ ہم نے لوٹ کے لوگوں کو منہ دِکھانا ہے
اُٹھا تو لی ہے محبت کی استھائی کی لَے
سو جیسے تیسے ہمیں انترا نبھانا ہے
وگرنہ کون اکیلے میں مسکراتا ہے
یہ ابتسام محبت کا شاخسانہ ہے
تِری اکڑ تو ملاتا میں خاک میں لیکن
اے گرد باد! مجھے گھونسلا بچانا ہے
نثار محمود تاثیر
No comments:
Post a Comment