Sunday, 6 June 2021

میں نے ڈرتے ہوئے پوچھا کہ محبت کی ہے

 میں نے ڈرتے ہوئے پوچھا کہ؛ محبت کی ہے

ہو کے محتاط وہ بولے؛ ارے حضرت کی ہے

دل یہ بگڑا ہوا رہتا ہے مزاجاً سب سے

اس نے اک شخص پہ کچھ روز حکومت کی ہے

دل یہ حاضر ہے رہائش کو تمہاری صاحب

در و دیوار کی تازہ ہی مرمت کی ہے

اتنے سادہ ہیں کہ سن کر مجھے پیار آتا ہے

گھر بدلنے کو بھی کہتے ہیں کہ ہجرت کی ہے

آپ کیوں اٹھ کے گئے؟ تخلیہ کہہ دینا تھا

آپ نے کس لیے بے کار یہ زحمت کی ہے

ہم کو معلوم ہیں لوگوں کے رویے دانش

ہم نے اس شہر میں کچھ روز سکونت کی ہے


دانش عزیز

No comments:

Post a Comment