Friday, 2 July 2021

یوں تری راہ میں بے کار پڑے رہتے ہیں

 یوں تری راہ میں بے کار پڑے رہتے ہیں

جیسے روندے ہوئے اخبار پڑے رہتے ہیں

نیند آنکھوں سے کئی کوس پرے رہتی ہے

سامنے خوابوں کے انبار پڑے رہتے ہیں

ہم کو معلوم ہوا ہے کہ تِری چوکھٹ سے

ہم جو اُٹھے ہیں تو اغیار پڑے رہتے ہیں

جب بھی چلتی ہے ہوا زیست کے باغیچے میں

پھول اُڑ جاتے ہیں، اور خار پڑے رہتے ہیں

جیسے عجلت میں کوئی آخری سانسوں کو گِنے

ایسے گُم صُم تِرے بیمار پڑے رہتے ہیں

ہائے وہ لوگ جو اُس پار کی خواہش میں عدیل

مُدتوں جھیل کے اِس پار پڑے رہتے ہیں


فرخ عدیل

No comments:

Post a Comment