جب میں بولوں تو مِری بات نہیں کاٹے گا
تُو جواباً یہ سوالات نہیں کاٹے گا
آنا جانا ہے اُجالوں میں ہی سورج کا میاں
مر بھی جائے تو یہاں رات نہیں کاٹے گا
پہلی پیشی پہ سزا موت کی مل جائے گی
عشق میں کوئی حوالات نہیں کاٹے گا
تجھ سے رُوٹھا ہوا نوچے گا فقط اپنا بدن
خاک چیرے گا سماوات نہیں کاٹے گا
بننے لگ جائیں گے اس شخص کا بازو سارے
چور کے کوئی یہاں ہات نہیں کاٹے گا
وہ بھی سچا ہے مِرے حق میں گواہی دے گا
مدعی میرے بیانات نہیں کاٹے گا
دیوتاؤں کا دیا زہر تو پی لے گا فہد
اپنا لکھا ہوا سقراط نہیں کاٹے گا
سردار فہد
No comments:
Post a Comment