سر تو جلتا ہے تِرے ہجر کے باعث لیکن
وہم کھل جائے تو قدموں سے دھواں نکلے گا
آگ لگ جائے گی تقدیر کی ہر تختی کو
اور پھر بخت کے دھاگوں سے دھواں نکلے گا
تو جو اک بار شرابوں پہ ذرا ہونٹ رکھے
پھر تِرے بعد شرابوں سے دھواں نکلے گا
ہے عجب وہم مِری ذات پہ طاری عرباض
نیند آئے گی تو خوابوں سے دھواں نکلے گا
عرباض عرضی
No comments:
Post a Comment