بانجھ پن
ہنستی مسکراتی زندگانی میں
نہ جانے کیوں اذیت کا طوفاں آیا
جب اک دستک نے چونکا دیا
جب اک آگاہی نے رُلا دیا
وہ جو زیست ازدواجی کی
سب سے حسیں خوشی ہوتی ہے
اس کی بے تکمیلی پر
کتنا رو رو کر
اس نے خود کو ہلکان کیا
وہ ننھے منے سے کپڑے
وہ ان گنت کھلونے
جو چہکاروں کے منتظر تھے
کسی بے بس بچے کی طرح
اک کونے میں دھرے ہیں
وہ جھُولا جو اب تک ساکت ہے
اپنے مکیں کو دھونڈتا ہے یہاں وہاں
اب تو خالی گود بھی اس کو
روز طعنہ دیتی ہے
کہ تم کیوں کچھ نہیں کرتی
اپنی خالی بانجھ کوکھ کو
آخر کیوں نہیں بھرتی
ثمرین افتخار
No comments:
Post a Comment