Friday, 2 July 2021

ہنستی مسکراتی زندگانی میں نہ جانے کیوں اذیت کا طوفاں آیا

 بانجھ پن


ہنستی مسکراتی زندگانی میں

نہ جانے کیوں اذیت کا طوفاں آیا

جب اک دستک نے چونکا دیا

جب اک آگاہی نے رُلا دیا

وہ جو زیست ازدواجی کی

سب سے حسیں خوشی ہوتی ہے

اس کی بے تکمیلی پر

کتنا رو رو کر

اس نے خود کو ہلکان کیا

وہ ننھے منے سے کپڑے

وہ ان گنت کھلونے

جو چہکاروں کے منتظر تھے

کسی بے بس بچے کی طرح

اک کونے میں دھرے ہیں

وہ جھُولا جو اب تک ساکت ہے

اپنے مکیں کو دھونڈتا ہے یہاں وہاں

اب تو خالی گود بھی اس کو

روز طعنہ دیتی ہے

کہ تم کیوں کچھ نہیں کرتی

اپنی خالی بانجھ کوکھ کو

آخر کیوں نہیں بھرتی


ثمرین افتخار

No comments:

Post a Comment