Friday, 2 July 2021

بیٹھا ہوں کسی راہ پہ اک ڈر کی طرح میں

 بیٹھا ہوں کسی راہ پہ اک ڈر کی طرح میں

ہوں آپ ہی اپنے کسی مخبر کی طرح میں

خیرات ملی عشق کی دہلیز سے مجھ کو

اس بار جو لوٹا ہوں قلندر کی طرح میں

ہر بات مِری سچ تھی مگر یہ نہیں مانا

اُمت کی طرح دل ہے پیمبر کی طرح میں

ہے کوفیوں سا شہر مجھے سر کی فکر ہے

نیزے کی طرح لوگ ہیں چادر کی طرح میں

یہ بات تو دشمن سے بھی پوچھو تو کہے گا

باہر بھی نظر آتا ہوں اندر کی طرح میں

ہر زخم سجا لیتا ہوں اس تن پہ مصور

مقتل کی زمینوں کے مقدر کی طرح میں


مصور عباس

No comments:

Post a Comment