بیٹھا ہوں کسی راہ پہ اک ڈر کی طرح میں
ہوں آپ ہی اپنے کسی مخبر کی طرح میں
خیرات ملی عشق کی دہلیز سے مجھ کو
اس بار جو لوٹا ہوں قلندر کی طرح میں
ہر بات مِری سچ تھی مگر یہ نہیں مانا
اُمت کی طرح دل ہے پیمبر کی طرح میں
ہے کوفیوں سا شہر مجھے سر کی فکر ہے
نیزے کی طرح لوگ ہیں چادر کی طرح میں
یہ بات تو دشمن سے بھی پوچھو تو کہے گا
باہر بھی نظر آتا ہوں اندر کی طرح میں
ہر زخم سجا لیتا ہوں اس تن پہ مصور
مقتل کی زمینوں کے مقدر کی طرح میں
مصور عباس
No comments:
Post a Comment