خامشی
تمہیں پتہ ہے کہ کون ہو تم؟
میں جب بھی تم سے یہ پوچھتا تھا
کہ کون ہو تم؟ کہاں کی ہو تم؟
تم ہنس کے کہتی کہ؛ میں تو وہ ہوں
کہ جس کو تم نے چُنا ہوا ہے
کہ جس کو تم چاہتے رہے ہو
میں اس سے بڑھ کر بھی خود کی تعریف کر سکوں گی؟
اگر میں کر بھی سکوں تو کرنے کو کیوں کروں گی؟
مگر یہ کیا ہے؟ کہ آج مجھ سے ہی
پوچھ بیٹھی کہ؛ کون ہوں میں؟
میں جانتا ہوں بتا بھی دوں گر
تو کون سا تم سمجھ سکو گی
میں گر کہوں؛ تم خدا کی بھیجی گئی خدائی ہو
تم تو بس گھورتی رہو گی
میں گر کہوں؛ تم بہشت سے بھیجا گندمی گُل ہو
تم تو ہنسنے لگو گی مجھ پہ
میں گر کہوں؛ تم ہمارے گلشن کے وہ شجر ہو
کہ جس کے نیچے اُگی جو جھاڑی ہے
وہ لپٹنے کو مر رہی ہے
تو تم کہو گی؛ یہ شاعری ہے
میں گر کہوں؛ وہ جو ایک دریا ہے
اس کنارے کھڑے شجر کے تلے جو اک بنچ ہے، وہ تم ہو
کہ جس پہ بیٹھے ہر مسافر کو سُوجھتا ہے
میں اپنی منزل پہ آن پہنچا
تو تم کہو گی؛ تمہاری باتیں تو
مندروں کے پجاریوں کی طرح ہیں بالکل
جو سر کے اوپر سے جا کے گزرے
میں گر کہوں کہ؛ وجود سے ماورا کوئی اک خیال ہو تم
میں گر کہوں؛ تم نہیں بھی ہوتی تو
تب بھی ہوتی ہو ہر جگہ پہ
تو تم کہو گی؛ تمہارے ساتھ کوئی نفسیاتی سا مسئلہ ہے
تبھی تو چپ ہوں، میں جانتا ہوں
تمہاری میری زبان چپ ہے
سو جب بھی خواہش ہو پوچھنے کی کہ؛ کون ہوں میں
تو میری آنکھوں میں دیکھ لینا
سمجھ سکو گی کہ کون ہو تم
فرقان فرقی
No comments:
Post a Comment