Friday, 2 July 2021

جس کی خاطر میں ہمیشہ ہی دعا کرتی ہوں

جس کی خاطر میں ہمیشہ ہی دُعا کرتی ہوں

اپنی ہر سانس بھی اس پہ میں فدا کرتی ہوں

مجھ کو سُولی سے ڈراتے ہیں زمانے والے

ہے مِرا جُرم یہی کہ میں وفا کرتی ہوں

چھوڑ جانا نہ کہیں راہِ وفا میں مجھ کو

بن کے سائل تِرے در پہ یہ صدا کرتی ہوں

جان رکھتی ہوں ہتھیلی پہ سجا کر ہر پل

میں تو یوں فرض محبت کا ادا کرتی ہوں

جسم سے جان نکلتی ہے ہمیشہ اس پل

جب بھی اس شخص کو خود سے میں جدا کرتی ہوں

چھوڑ دیتی ہوں سبھی کچھ ہی خدا کے اوپر

دل کے زخموں کی بھلا کب میں دوا کرتی ہوں

میں ہوں انسان، فرشتہ تو نہیں ہوں تسنیم

معاف کرنا اے خدا! جو بھی خطا کرتی ہوں


سیدہ تسنیم بخاری

No comments:

Post a Comment