ہماری آنکھوں سے اشک بن کر نکل رہی ہے
کسی کی یادوں کی برف دل میں پگھل رہی ہے
میں دوسری بار اس کے رستے میں آ رہا ہوں
وہ دوسری بار اپنا رستہ بدل رہی ہے
ہمارے جسموں پہ چادرِ غم پڑی ہوئی ہے
ہماری روحوں کو اِک اُداسی نگل رہی ہے
وہ برتھ ڈے پر کسی کے آنے کی منتظر ہے
یہ کیک کے ساتھ موم بتی پگھل رہی ہے
اعزاز کاظمی
No comments:
Post a Comment