Friday, 2 July 2021

فلک پر کوئی سازش ہو رہی ہے

فلک پر کوئی سازش ہو رہی ہے

سمندر پر ہی بارش ہو رہی ہے

ہٹائے جا رہے ہیں کام کے لوگ

نکموں پر نوازش ہو رہی ہے

دبایا جا رہا ہے خوبیوں کو

جہالت کی نمائش ہو رہی ہے

برائی چل رہی ہے پیٹھ پیچھے

مگر منہ پر ستائش ہو رہی ہے

نوازا جا رہا ہے دشمنوں کو

وفاداروں سے پُرسش ہو رہی ہے

عتیق اب چلا چلاؤ کی گھڑی ہے

دعاؤں کی گزارش ہو رہی ہے


عتیق مظفرپوری

No comments:

Post a Comment