دھوکا ہی ملا پیار کا منظر نہیں دیکھا
اپنوں کو کبھی ہم نے پرکھ کر نہیں دیکھا
آواز اٹھاتا ہے جو مظلوم کی خاطر
اس شخص کی آنکھوں میں کبھی ڈر نہیں دیکھا
آؤں تو بھلا آؤں تِرے پاس میں کیسے؟
میں نے تو کبھی تیری گلی گھر نہیں دیکھا
طوفان سے وہ کیسے بچا پائے گا خود کو
کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا
سو جاتے زمیں پر ہیں وہ اخبار بچھا کر
تم نے کسی مزدور کا بستر نہیں دیکھا
دیکھی ہے زمانے نے ہنسی میرے لبوں پر
حیرت ہے مِری آنکھوں کے اندر نہیں دیکھا
جھکتا نہ ہو چوکھٹ پہ کبھی اس کی جو زبدہ
دنیا میں کبھی ایسا کوئی سر نہیں دیکھا
زبدہ خان
No comments:
Post a Comment