مسکراتا تھا میں جب کوئی بھنور آتا تھا
تیرنے کا مجھے ایسا بھی ہُنر آتا تھا
وقت نے دُھند سی بھر دی ہے مِری آنکھوں میں
پہلے پہلے تو بہت صاف نظر آتا تھا
نام لیتا تھا میں اُس شخص کا تاریکی میں
اور سُورج مِرے پہلو میں اتر آتا تھا
دربدر خاک اڑاتے ہوئے پھرتا ہوں جہاں
انہی رستوں پہ کبھی میرا بھی گھر آتا تھا
کوئی کرتا تھا کنارے سے اشارہ مجھ کو
ڈوبتے ڈوبتے میں پھر سے اُبھر آتا تھا
فرخ عدیل
No comments:
Post a Comment