تجھ سے اتنی روشنی ہونے لگی
چاند کو شرمندگی ہونے لگی
ان کو خود پہ اتنا طاری کر لیا
بیٹھے بیٹھے حاضری ہونے لگی
ہر کوئی تیری طرح لگنے لگا
ہر گلی تیری گلی ہونے لگی
ہائے وہ آنکھیں کہ جن میں دیکھ کر
اپنے بارے آگہی ہونے لگی
جسم کا رستہ بھلا لگنے لگا
اور محبت میں کمی ہونے لگی
یہ نگاہِ یار کا اعجاز ہے
چلتے پھرتے شاعری ہونے لگی
اعجاز دانش
No comments:
Post a Comment