Thursday, 15 December 2016

نظر بھر کے سوئے بیمارِغم دیکھا نہیں جاتا

نظر بھر کے سوئے بیمارِغم دیکھا نہیں جاتا
اکھڑنا ایک اک ہچکی میں دم دیکھا نہیں جاتا
خدا دشمن سے دشمن کو نا دکھلائے شبِ فرقت
مجھی سے اپنا چہرہ صبح دم دیکھا نہیں جاتا
محبت میں کچھ ایسے آنکھوں پر پڑ جاتے ہیں پردے
کہ وقتِ جذبِ دل دَیر و حرم دیکھا نہیں جاتا
یہ کہہ کر وہ اٹھے بالیں سے قربان اس بہانے کے
کسی بے کس کو ہم سے مرتے دم دیکھا نہیں جاتا
تعجب خیز عالم ہیں یہ دو عبرت کی تصویریں 
ہمارا ضبط اور تیرا ستم دیکھا نہیں جاتا
فقط اک قبر ہے آگے خدا کا نام اے محشرؔ
کسی سے حالِ اربابِ عدم دیکھا نہیں جاتا

محشر لکھنوی

No comments:

Post a Comment