Tuesday, 13 December 2016

کانچ کا شہر ہے اور لوگ ہیں پتھر سارے

کانچ کا شہر ہے اور لوگ ہیں پتھر سارے
ہاتھ میں تیشہ لیے پھرتے ہیں رہبر سارے
چشم پوشی کا سلیقہ ہی سکھا دے مجھ کو
زخمی کر دیتے ہیں احساس کے نشتر سارے
عہدِ رفتہ کی اسیری سے رہائی دے مجھے
یا بدل ڈال میری سوچ کے محور سارے
ہے تمنا تجھے دنیا کی تو بیچ اپنا ضمیر
اہلِ دل، اہلِ نظر رہتے ہیں بے گھر سارے
کعبۂ دل رہے آباد دعا کرنا شہنازؔ
اور اب توڑ دے اغیار کے مندر سارے

شہناز مزمل

No comments:

Post a Comment