کانچ کا شہر ہے اور لوگ ہیں پتھر سارے
ہاتھ میں تیشہ لیے پھرتے ہیں رہبر سارے
چشم پوشی کا سلیقہ ہی سکھا دے مجھ کو
زخمی کر دیتے ہیں احساس کے نشتر سارے
عہدِ رفتہ کی اسیری سے رہائی دے مجھے
ہے تمنا تجھے دنیا کی تو بیچ اپنا ضمیر
اہلِ دل، اہلِ نظر رہتے ہیں بے گھر سارے
کعبۂ دل رہے آباد دعا کرنا شہنازؔ
اور اب توڑ دے اغیار کے مندر سارے
شہناز مزمل
No comments:
Post a Comment