اک کیف سا برسا گئی ہیں آپ کی آنکھیں
بادل کی طرح چھا گئی ہیں آپ کی آنکھیں
ساقی سے تمنا کروں اک جام کی، توبہ
سو جام سے چھلکا گئی ہیں آپ کی آنکھیں
وہ وقت کہ جب میں نے انہیں چوم لیا تھا
آنکھوں کا ہر اک خواب اب آنکھوں میں رہے گا
دل کو مِرے بہلا گئی ہیں آپ کی آنکھیں
آنے لگی ہے مجھ کو نظر اب مری صورت
کچھ اور قریب آ گئی ہیں آپ کی آنکھیں
صابر دت
No comments:
Post a Comment