Tuesday, 13 December 2016

اک کیف سا برسا گئی ہیں آپ کی آنکھیں

اک کیف سا برسا گئی ہیں آپ کی آنکھیں
بادل کی طرح چھا گئی ہیں آپ کی آنکھیں
ساقی سے تمنا کروں اک جام کی، توبہ
سو جام سے چھلکا گئی ہیں آپ کی آنکھیں
وہ وقت کہ جب میں نے انہیں چوم لیا تھا
اس وقت کو ترسا گئی ہیں آپ کی آنکھیں
آنکھوں کا ہر اک خواب اب آنکھوں میں رہے گا
دل کو مِرے بہلا گئی ہیں آپ کی آنکھیں
آنے لگی ہے مجھ کو نظر اب مری صورت
کچھ اور قریب آ گئی ہیں آپ کی آنکھیں

صابر دت

No comments:

Post a Comment