Tuesday, 13 December 2016

میں کھو گئی ہوں مگر اب گمان بولے گا

میں کھو گئی ہوں مگر اب گمان بولے گا
مکیں بغیر یہ خالی مکان بولے گا
یہ خامشی تو مِری ذات کا حوالہ ہے
میں گم ہوں عشق میں میرا گیان بولے گا
تمازتوں سے بچاتا جو ماں ہے ممتا ہے
یقیں دلانے کو ہر سائبان بولے گا
سفینہ لانے کو ساحل پہ جاں سے کھیلا ہوں
ہر ایک ٹوٹا ہوا بادبان بولے گا
زمانے بھر کی سمیٹی ہے تیرگی شب نے
ملے گی جب بھی زباں آسمان بولے گا
جو میری روح مِرے جسم و جاں میں بستا ہے
وہ آج تیرے میرے درمیان بولے گا
اگرچہ میرا جنوں مجھ کو بے خبر کردے
زمین بولے گی سارا زمان بولے گا

شہناز مزمل

No comments:

Post a Comment