اب عشق تماشا ہے بنا عشقِ مسلسل
ہے عشق کے دِیوے کی ضیا عشقِ مسلسل
میرے ادھورے خواب ہیں دیوار پہ تصویر
جذب و حروف کی ہے عطا عشقِ مسلسل
اپنی تلاش کر کے مِلا جادۂ عرفاں
وہ ہو کے نہاں بیٹھا مِرے قریۂ جاں میں
تھا عشق سمندر میں چھپا عشقِ مسلسل
اک گونج فضا میں ہے تِرا عشق گوہر ہے
پایا جو عشقِ کل، تو کھلا عشقِ مسلسل
شہناز مزمل
No comments:
Post a Comment