Monday, 11 July 2022

ایک مصرعہ مرے ہونٹوں پہ سجا رہنے دے

ایک مصرعہ مِرے ہونٹوں پہ سجا رہنے دے

ایک چہرہ مِری آنکھوں سے لگا رہنے دے

اس نے رکھا ہے اگر خود کو چُھپا رہنے دے

وہ اگر خود کو سمجھتا ہے خدا، رہنے دے 

اتنے سالوں کی مسافت سے تھکا آیا ہے

بڑھ کے سینے سے لگا یوں نہ تھکا رہنے دے

لالہ زاروں کے سرابوں سے نکل آنے کو

ایک کانٹا مِرے پاؤں میں چبُھا رہنے دے

آسمانوں پہ تو پہلے ہی بہت تارے ہیں 

طاقچوں میں بھی کہیں ایک دِیا رہنے دے 

ایک خوشبو کے احاطے میں گِھری رہتی ہوں

ایک پیغام دوپٹے سے بندھا رہنے دے

شوخ رہنے دے محبت میں مِرے گالوں کو

میرے بالوں پہ فِدا بادِ صبا رہنے دے

رات دیوار و در و بام پہ لہراتی ہے

چاند دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے

شاخچوں پر نئے پُھولوں کی رِدا پھیلی ہے 

میز پر میری، تِرا نامہ کھلا رہنے دے 

کارِ دنیا بھی ضروری ہیں مگر دل چاہے

کوئی دہلیز پہ دلبر کی پڑا رہنے دے

اس کی چھاؤں میں مجھے ماں کا سکوں ملتا ہے

نِیم کا پیڑ مِرے گھر میں لگا رہنے دے

اس قدر حبس، نہ مر جائے تِری مہ احمد

کوئی روزن، کہیں تھوڑی سی ہوا رہنے دے


مہرو ندا احمد

No comments:

Post a Comment