Monday, 11 July 2022

اندر کے زخم صورت قندیل جلتے ہیں

 اندر کے زخم صورتِ قندیل جلتے ہیں

دل کے پھپھولے رخصتی پر ہاتھ ملتے ہیں

سورج کی مِثل کب ہیں شعاع زاد وہ وجود

اجسامِ نور وہ جو دعاؤں میں ڈھلتے ہیں

وحشت مزاجی تنہا شعاری کے روگ میں

جو مبتلا ہوئے، وہ کہاں پھر سنبھلتے ہیں

رختِ سفر جو باندھیں تو پتھر مزاج لوگ

آنگن کی اک جدائی میں کتنا پگھلتے ہیں

اس کی جدائی بانٹ گئی ہے وجود کو

لکھتے ہیں شعر گاہ کبھی خون اُگلتے ہیں

وہ ریشمی وجود گلابوں کی آبرو

وہ جس بدن میں رنگ شفق کے مچلتے ہیں

خاور وہ چشم سحر کی مانند چھا گئی

ہم نشۂ وجود سے باہر نکلتے ہیں


مرید عباس خاور

No comments:

Post a Comment