Sunday, 10 July 2022

اور اب کی بار تو وہ ضبط آزمایا گیا

 اور اب کی بار تو وہ ضبط آزمایا گیا

گھٹن سے مر گئے اس کو نہیں بتایا گیا

تمام عمر کی محنت بھی رائیگاں ہی گئی

وہ ایک شخص بھی مجھ سے نہیں کمایا گیا

زیادہ دیر کوئی بھی نہیں ٹھہرتا یہاں

اداس دل ہے، خموشی ہے، جو بھی آیا گیا

تمہارے ساتھ تعلق میں ہی سہولت تھی

تمہارے بعد مِری جاں! بہت ستایا گیا

جو آج روشنی دینے سے بھی گریزاں ہے

یہی چراغ مِرے ہاتھ سے جلایا گیا

شروع دن سے یہی اک زباں سمجھتا تھا

اسے ہمیشہ محبت سے ورغلایا گیا


امن شہزادی

No comments:

Post a Comment