اور اب کی بار تو وہ ضبط آزمایا گیا
گھٹن سے مر گئے اس کو نہیں بتایا گیا
تمام عمر کی محنت بھی رائیگاں ہی گئی
وہ ایک شخص بھی مجھ سے نہیں کمایا گیا
زیادہ دیر کوئی بھی نہیں ٹھہرتا یہاں
اداس دل ہے، خموشی ہے، جو بھی آیا گیا
تمہارے ساتھ تعلق میں ہی سہولت تھی
تمہارے بعد مِری جاں! بہت ستایا گیا
جو آج روشنی دینے سے بھی گریزاں ہے
یہی چراغ مِرے ہاتھ سے جلایا گیا
شروع دن سے یہی اک زباں سمجھتا تھا
اسے ہمیشہ محبت سے ورغلایا گیا
امن شہزادی
No comments:
Post a Comment