سوال ہی سوال ہیں
کٹی زبان پر سجا
صلیب پر لٹک رہا
زمین میں گڑا ہوا
سناں پہ بولتا ہوا
یہ کون ہے؟
سوال ہے
کہاں کہاں سوال ہے؟
جہاں جہاں چراغ ہے
جہاں جہاں دماغ ہے
وہاں وہاں سوال ہے
زمین گر سوال ہے
تو آسماں سوال ہے
یہ سب جہاں سوال ہے
زبان اور خیال کا وصال ہے
سوال ہے
تو شاعری سوال ہے
یہ شاعری ہے زندگی
یہ زندگی ہے شاعری
تو زندگی سوال ہے
یہ زندگی سوال ہے تو ہر گھڑی سوال ہے
گھڑی کا روشنی سے رشتہ کیا کمال ہے؟
سوال ہے
یہ روشنی ہے آگہی
تو آگہی ہے آدمی
ہوں میں بھی ایک آدمی
ہے تو بھی ایک آدمی
سو آدمی سوال ہے
جزا بھی اک سوال ہے
سزا بھی اک سوال ہے
خدا ! خدا !!
خدا تو خود سوال ہے
سوال ہی سوال ہیں
لہو میں تربتر ہوئے
سوال ہیں
یہ پتھروں کی بستیوں میں بولتے
سوال ہیں
یہ غربتوں کی چکیوں میں پس رہے
سوال ہیں
جو پیر میں ہیں بیڑیاں
سوال ہیں
یہ بن بیاہی بیٹیاں
سوال ہیں
عقیدتوں کی آڑ میں جو پھٹ رہی ہیں جیکٹیں
یہاں ہر ایک بولتی زبان کے نصیب میں ہیں بیرکیں
محافظوں کی آہٹیں
یہ بن بلائی دستکیں
سوال ہیں
لہو میں غرق ہچکیاں
یہ رات کی ردا تلے
جو اٹھ رہی ہیں سسکیاں
سوال ہیں
سوال ہی سوال ہیں
وہ جاگتے
وہ سوچتے
وہ دیکھتے
وہ بولتے
وہ روکتے
وہ گمشدہ جو ہو گئے
وہ لاپتہ سوال ہیں
یہ جان لو
جب اک سوال مر گیا
تو سو سوال اٹھ گئے
سوال سے ڈرو نہیں
سوال کا جواب دو
زین عباس
No comments:
Post a Comment