Sunday, 10 July 2022

ہمارے لیے تو یہی ہے کہ

 ہمارے لیے تو یہی ہے کہ

تمہارا جلوس جب شاہراہ سے گزرے

تو تم اپنی انگلیوں کی تتلیاں ہماری جانب اڑاؤ

اپنی انگلیوں کو ہونٹوں سے چھوتے ہوئے

ہماری جانب ایک بوسے کی صورت اچھالو

جسے سمیٹنے کے لیے ہم ایک ساتھ لپکیں

ہمارے لیے تو یہی ہے کہ

تمہارا لباس ہم پر مہربان ہو جائے

تم اپنی بگھی سے اترتے ہوئے

اپنے پائنچے انگلیوں سے سمیٹ لو

اور تمہارا سینڈل

تمہارے ٹخنے کی پہریداری سے غافل ہو جائے

یا ہوا تمہارے بالوں کو لہرا دے

اور تم انہیں سمیٹنے کی کوشش میں

اپنا نصف بازو برہنہ کر ڈالو

یا آسمان پر کوئی پرندہ دیکھتے ہوئے

تمہارے ہونٹوں پر آنے والی مسکراہٹ

ہماری آنکھوں سے اتفاقی ملاقات کر لے


کاشف رضا

No comments:

Post a Comment