عشق کیا شے ہے دوست کیا کہیۓ
خوبصورت سی اک خطا کہیۓ
سب کے اپنے معاملے ہیں جناب
کس کو اچھا کسے برا کہیۓ
نور اس کا، ظہور اس کا ہے
دیکھیۓ، اور مرحبا کہیۓ
ساری دنیا لگا چکی تُہمت
آپ بھی مجھ کو بیوفا کہیۓ
ہر مرض کا علاج ممکن ہے
دردِ دل کی ہے کیا دوا کہیۓ
نام جب لکھ دی زندگی میرے
کس لیے پھر ہے فاصلا کہیۓ
جس نے لوٹا ہے چین گوہر کا
نام کیا لوں، بس آشنا کہیۓ
تنویر گوہر
No comments:
Post a Comment