Saturday, 9 October 2021

کھل گئیں آنکھیں کہ جب دنیا کا سچ ہم پر کھلا

 کھل گئیں آنکھیں کہ جب دنیا کا سچ ہم پر کُھلا

اپنے اندر سب کھلے ہیں کون ہے باہر کھلا

قتل سے پہلے ذرا چیخوں پہ اک مقتول کی

کچھ دریچے تو کُھلے لیکن نہ کوئی در کھلا

تنگ ہو جائے زمیں بھی اب تو کوئی غم نہیں

ہم فقیروں کے لیے ہے آسماں سر پر کھلا

آدمی کے ظاہر و باطن میں کتنا فرق ہے

آج دورانِ مسافت ہم پہ یہ منظر کھلا

دو دعائیں شاہ کو جن کے زمانے میں ظفر

وہ پذیرائی ہوئی غالب کا ہر جوہر کھلا


ظفر کلیم

No comments:

Post a Comment