دل جسے چاہے وہ مِل جائے ضروری تو نہیں
دل کا ہر زخم ہی سِل جائے ضروری تو نہیں
جو میرے دل میں رہا پھول خوشبو کی طرح
وہ کلی بن کے بھی کھل جائے ضروری تو نہیں
جس کا خوابوں میں لگا رہتا ہے آنا جانا
وہ حقیقت میں بھی مل جائے ضروری تو نہیں
سسکیاں لے کے ہر ارمان نے دم توڑ دیا
عرش فریاد سے ہل جائے ضروری تو نہیں
مہ جبیں غزل انصاری
No comments:
Post a Comment