Saturday, 9 October 2021

دل جسے چاہے وہ مل جائے ضروری تو نہیں

 دل جسے چاہے وہ مِل جائے ضروری تو نہیں

دل کا ہر زخم ہی سِل جائے ضروری تو نہیں

جو میرے دل میں رہا پھول خوشبو کی طرح

وہ کلی بن کے بھی کھل جائے ضروری تو نہیں

جس کا خوابوں میں لگا رہتا ہے آنا جانا

وہ حقیقت میں بھی مل جائے ضروری تو نہیں

سسکیاں لے کے ہر ارمان نے دم توڑ دیا

عرش فریاد سے ہل جائے ضروری تو نہیں


مہ جبیں غزل انصاری

No comments:

Post a Comment