زمیں پہ تھا یا میں سرِ آسماں تھا
تمہی کچھ بتاؤ کہ کل شب کہاں تھا
شبِ وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
نفس کا مگر چل رہا، کارواں تھا
مِرے سامنے وہ اور اس کا گماں تھا
تصور میں وہ یوں رواں اور دواں تھا
خوشی اور مِری سرخوشی بھی وہی تھا
اسے شاد دیکھوں تو میں شادماں تھا
جو سیلاب آیا، تو بستی بہا دی
خدا جانے گھر میرا یاں تھا کہ واں تھا
ایاز مفتی
No comments:
Post a Comment