جُز تیرے ہر اک شے اسے بیکار لگے ہے
دل اب بھی تِرا حاشیہ بردار لگے ہے
حق کہنے سے منصور نہ بن جاؤ گے لوگو
سینے پہ یہ تمغہ تو سرِ دار لگے ہے
کہتا تھا کنارے پہ کل اک ڈوبنے والا
طوفاں سے جو کھیلے ہے وہی پار لگے ہے
وہ اور مجھے دیکھیں عنایت کی نظر سے
یہ بات تو اک سرخئ اخبار لگے ہے
پوچھے نہ کوئی اس دلِ مایوس کا عالم
ہنس کے جو ذرا بولے تو غمخوار لگے ہے
ناقدرئ اربابِ سخن دیکھ کے سنبل
یہ جنسِ گراں مایہ بھی بیکار لگے ہے
صبیحہ سنبل
No comments:
Post a Comment