دور گر مجھ سے جاؤ گی پگلی
ہجر میرا مناؤ گی پگلی
روٹھ جائیں گے ہم تو حجت میں
اور ہمیں تم مناؤ گی پگلی
خود ہی کر کے جدا مجھے اب کیا
خود ہی جینا سکھاؤ گی پگلی
کون تیری یہ آنکھ چومے گا
کس سے آنسو بہاؤ گے پگلی
آج سورج ہے اس لیے نکلا
کپڑے تم کب سُکھاؤ گی پگلی
کون سا غم نگل رہا ہے مجھے
جلد ہی جان جاؤ گی پگلی
غیر موجودگی میں کب تک تم
میری غزلیں ہی گاؤ گی پگلی
جانی امید تو فقط تِرا ہے
کیا کسے بول پاؤ گی پگلی؟
ارشد امید
No comments:
Post a Comment