اب ایسا لگتا ہے دھوکے سے دسترس لی ہو
تباہ کرنے پہ پھر تو کمر ہی کس لی ہو
کئی ملیں گے غلط شجرۂ نسب والے
رہے گا ساتھ ہمیشہ جو پورا نسلی ہو
کسی نے دیکھ مجھے اس طرح کیا برباد
کہ پھول توڑا بھی ہو، پنکھڑی بھی مسلی ہو
میں اپنے ساتھ سفر پر یوں جانا چاہتا ہوں
جگہ پتا نہ ہو لیکن کہیں کی بس لی ہو
حارث جمیل
No comments:
Post a Comment