ستاتا ہے یہ میاں عمر بھر ستاتا ہے
بدن درندہ ہے، اور جانور ستاتا ہے
گُھٹن بھی ہوتی ہے دیوار دیکھ کر اکثر
میں گھر سے نکلوں تو مجھ کو سفر ستاتا ہے
ہمارے پُرکھوں کی عمریں لگی ہیں اس گھر میں
بتاؤ، کیسے کہوں مجھ کو گھر ستاتا ہے
نقاب ان کا ہماری اڑاتا ہے نیندیں
یقین کیجیۓ قیدی کو در ستاتا ہے
وہ میرے سامنے کچھ بولتا نہ تھا جو شخص
نجانے کیوں مجھے اب فون پر ستاتا ہے
کبھی کبھی تو سخن نوچتا ہے آنکھوں کو
کبھی کبھی ہمیں اپنا ہنر ستاتا ہے
غلط چلاتا ہوں امید کلکولیٹر اب
تِرا خیال مجھے کام پر ستاتا ہے
ارشد امید
No comments:
Post a Comment