Monday, 11 October 2021

اک طرف پیار تو اک سمت انا رکھی ہے

اک طرف پیار تو اک سمت انا رکھی ہے 

حسن والوں نے حسن کیسی سزا رکھی ہے 

اس کی یادوں کے گلستاں کو ہرا رکھنا ہے 

اک ندی آنکھ سے اشکوں کی بہا رکھی ہے 

روشنی، تیری بھی وقعت ہے ہمارے دم سے

ہم اندھیروں نے تِری شان بڑھا رکھی ہے  

مجھ کو ہے علم تو راتوں میں کہاں جاتا ہے 

آج کل میں نے ستاروں سے بنا رکھی ہے  

خونِ سادات نے مٹی کو فضیلت بخشی 

خاک میں بھی مِرے مولا نے شفا رکھی ہے  

اُس کی خواہش ہے اندھیروں میں بھٹکتا ہی رہوں 

میں دِیا🪔 لایا ہوں اور اُس نے ہوا رکھی ہے  

اتنا قاتل بھی نہیں حُسن تِرا ہوش میں رہ 

ان چھچھوروں نے تو بے پرکی اڑا رکھی ہے  

وصل کے لمحوں کو محصور کیا ہے صاحب 

میں نے اس بار گھڑی پیچھے گھما رکھی ہے 

خود مزے سے میں تمہیں سوچ رہا ہوں ہمدم

اور بستر پہ فقط نیند سُلا رکھی ہے 


حسیب الحسن

No comments:

Post a Comment