خواب کا درپن ٹُوٹ گیا تو؟
ساتھ تمہارا چھُوٹ گیا تو
شیشے سا نازک دل میرا
کھیل میں تیرے ٹُوٹ گیا تو
بھیڑ میں جاتے ڈر لگتا ہے
رہزن کوئی لُوٹ گیا تو
ہریالی کب تک روکو گے
بیج زمیں سے پھُوٹ گیا تو
سچ کیسے منواؤ گے تم ؟
جیت کے بازی جھُوٹ گیا تو
وقت گیا پھر ہاتھ نہ آئے
پکڑو اس کو چھُوٹ گیا تو
حیاء غزل
No comments:
Post a Comment