حسن قاتل ہے، یہ کہتے ہیں زمانے والے
مجھ سے منہ پھیر لے آنکھوں سے پلانے والے
مسکراتے ہوئے کچھ اور نکھر جاتا ہے
جانتے ہیں تِری تصویر بنانے والے
دل کو توڑا ہے مگر میری دعاؤں میں رہا
جا تِری خیر ہو اے مجھ کو رلانے والے
امتحاں دل پہ مسلط تو رہے گا، لیکن
پھر نہ آئیں گے کبھی لوٹ کے جانے والے
شاخ سے جھڑتے ہوئے پھول صدا دیتے ہیں
یوں بچھڑتے ہیں بھلا ساتھ نبھانے والے
ہے یہی دہر میں تفسیرِ مکافاتِ عمل
خود بھی جل جاتے ہیں اوروں کو جلانے والے
سرد راتوں میں حیا یاد بہت آتے ہیں
جاگنے والے، ہمیں ساتھ جگانے والے
حیاء غزل
No comments:
Post a Comment