تڑپ کے رہ گئیں نظریں یہ بے بسی کی طرح
وہ میرے شہر سے گزرے ہیں اجنبی کی طرح
نبھاتے دوستی ہم سے وہ چھوڑیئے اس کو
کہ دشمنی بھی نبھائی نہ دشمنی کی طرح
نہ اپنا پن تھا کسی میں نہ وہ خلوص و وفا
ہزاروں لوگ ملے ہم کو آپ ہی کی طرح
مری نگاہ میں جیسے کوئی ہے جلوہ فروز
چمک رہی ہے کوئی چیز روشنی کی طرح
تمام عمر رہے گا یہ اس سے وابستہ
مِرے لبوں پر تیرا ذکر ہے ہنسی کی طرح
وہ دن گئے روبینہ کہ وقار تھا اس کا
نہیں ہے زندگی بھی آج زندگی کی طرح
روبینہ میر
No comments:
Post a Comment