Sunday, 3 January 2021

تڑپ کے رہ گئیں نظریں یہ بے بسی کی طرح

 تڑپ کے رہ گئیں نظریں یہ بے بسی کی طرح

وہ میرے شہر سے گزرے ہیں اجنبی کی طرح

نبھاتے دوستی ہم سے وہ چھوڑیئے اس کو

کہ دشمنی بھی نبھائی نہ دشمنی کی طرح

نہ اپنا پن تھا کسی میں نہ وہ خلوص و وفا

ہزاروں لوگ ملے ہم کو آپ ہی کی طرح

مری نگاہ میں جیسے کوئی ہے جلوہ فروز

چمک رہی ہے کوئی چیز روشنی کی طرح

تمام عمر رہے گا یہ اس سے وابستہ

مِرے لبوں پر تیرا ذکر ہے ہنسی کی طرح

وہ دن گئے روبینہ کہ وقار تھا اس کا

نہیں ہے زندگی بھی آج زندگی کی طرح


روبینہ میر

No comments:

Post a Comment