چھوڑنا ہی تھا اگر دل نہ جلاتے جاتے
یوں نہ الفت کے ہمیں خواب دکھاتے جاتے
وقت رخصت تو ہمیں یوں نہ رلاتے جاتے
لوگ ہنستے ہیں سبھی حال پہ آتے جاتے
ہم سے دامن ہی چھڑانا تھا تو ایسا کرتے
اپنے ہونے کا ہی احساس مٹاتے جاتے
ہم نہ ان کے لیے اس طرح تڑپتے ہر دم
گر سبب ترکِ تعلق کا بتاتے جاتے
درد رستا نہیں جو آنکھ سے آنسو بن کے
زخم وہ اور نئے دل پہ لگاتے جاتے
ہم نہ ہوتے کبھی بدنام تِری الفت میں
گر سلیقے سے ہر اک زخم چھپاتے جاتے
سلسلے توڑ کے جانا تھا تو جاتے پر یوں
سرِ محفل تو نہ الزام لگاتے جاتے
حیاء غزل
No comments:
Post a Comment