Tuesday, 5 October 2021

چھوڑنا ہی تھا اگر دل نہ جلاتے جاتے

 چھوڑنا ہی تھا اگر دل نہ جلاتے جاتے

یوں نہ الفت کے ہمیں خواب دکھاتے جاتے

وقت رخصت تو ہمیں یوں نہ رلاتے جاتے

لوگ ہنستے ہیں سبھی حال پہ آتے جاتے

ہم سے دامن ہی چھڑانا تھا تو ایسا کرتے

اپنے ہونے کا ہی احساس مٹاتے جاتے

ہم نہ ان کے لیے اس طرح تڑپتے ہر دم

گر سبب ترکِ تعلق کا بتاتے جاتے

درد رستا نہیں جو آنکھ سے آنسو بن کے

زخم وہ اور نئے دل پہ لگاتے جاتے

ہم نہ ہوتے کبھی بدنام تِری الفت میں

گر سلیقے سے ہر اک زخم چھپاتے جاتے

سلسلے توڑ کے جانا تھا تو جاتے پر یوں

سرِ محفل تو نہ الزام لگاتے جاتے


حیاء غزل

No comments:

Post a Comment