Monday, 5 April 2021

ہم ہیں دشت جنوں کے سودائی

 ہم ہیں دشتِ جنوں کے سودائی

سو یہ وحشت ہمیں کو راس آئی

پیار کا بخت، آبلہ پائی

مستقل ساتھ چلتی رسوائی

موت تو طے ہے اب کے اس دل کی

کنواں آگے تو پیچھے ہے کھائی

اپنی یاری تو دھوپ سے ٹھہری

سائے سے کب رہی شناسائی 

دیکھا ماضی میں جھانک کے ہم نے

دھول کی ایک تہہ جمی پائی 

بے حسی چھا گئی ہے ذہنوں پہ

دل پہ کیسی ہے جم گئی کائی

جان پایا نہیں کوئی اب تک

میرے لفظوں میں جو ہے گہرائی

دل نے چاہت کی آرزو میں غزل

دیکھو کتنی بڑی سزا پائی


حیاء غزل

No comments:

Post a Comment