دوست آنے میں بڑی دیر لگا دی تم نے
دل دُکھانے میں بڑی دیر لگا دی تم نے
مجھ کو دنیا سے گئے ایک زمانہ گزرا
غم منانے میں بڑی دیر لگا دی تم نے
اپنا دل ہم تو ہتھیلی پہ لیے بیٹھے تھے
آزمانے میں بڑی دیر لگا دی تم نے
میں نے آہوں سے سنجویا تھا محبت کا چمن
خار لانے میں بڑی دیر لگا دی تم نے
جسم نے رُوح سے کل پوچھ لیا تھا آفی
قید خانے میں بڑی دیر لگا دی تم نے
آفرین فہیم آفی
No comments:
Post a Comment