Monday, 5 April 2021

سب ہیں آئینہ ساز پیشے سے

 سب ہیں آئینہ ساز پیشے سے

اک عقیدت ہے اس قبیلے سے

ایک خط اس کی جیب سے نکلا

لاش لٹکی ہوئی تھی پنکھے سے

اس کی عظمت پہ اعتقاد نہیں

لوگ ملتے ہیں جس وسیلے سے

گِرد اس کے طواف کرنے لگا

نکلا باہر جو پنچھی پنجرے سے

پانی مشکیزے میں بھرا اس نے

اترا اک شہسوار گھوڑے سے

ہم پتہ تجھ ملنگ کا راشف

پوچھ بیٹھے گلی میں بچے سے


راشف عزمی

No comments:

Post a Comment