سب ہیں آئینہ ساز پیشے سے
اک عقیدت ہے اس قبیلے سے
ایک خط اس کی جیب سے نکلا
لاش لٹکی ہوئی تھی پنکھے سے
اس کی عظمت پہ اعتقاد نہیں
لوگ ملتے ہیں جس وسیلے سے
گِرد اس کے طواف کرنے لگا
نکلا باہر جو پنچھی پنجرے سے
پانی مشکیزے میں بھرا اس نے
اترا اک شہسوار گھوڑے سے
ہم پتہ تجھ ملنگ کا راشف
پوچھ بیٹھے گلی میں بچے سے
راشف عزمی
No comments:
Post a Comment