اس زمانے میں ایسے بہت ہیں
جن کے چہرے پہ چہرے بہت ہیں
ہم سے آداب جینے کے سیکھو
ہم بزرگوں میں بیٹھے بہت ہیں
نوجوانوں کی مجبوریاں ہیں
سوچتے کم، سمجھتے بہت ہیں
رات رPکنے کی خواہش نہ کرنا
اس علاقے میں خطرے بہت ہیں
ایسے ناؤ بھی ڈوبے یقیناً
جو سمندر میں تیرے بہت ہیں
حنا تیموری
No comments:
Post a Comment