Tuesday, 20 December 2016

یہ مایوسی کہیں وجہ سکون دل نہ بن جائے

یہ مایوسی کہیں وجہِ سکون دل نہ بن جائے
غمِ بے حاصلی ہی عشق کا حاصل نہ بن جائے
مدد اے جذبِ دل! راہِ محبت سخت مشکل ہے
خیالِ دورئ منزل، کہیں منزل نہ بن جائے
نہیں ہے دل تو کیا پہلو میں ہلکی سی خلِش تو ہے
یہ ہلکی سے خلِش ہی رفتہ رفتہ، دل نہ بن جائے
ہجومِ شوق، اور راہِ محبت کی بلا خیزی
کہیں پہلا قدم ہی آخری منزل نہ بن جائے

چراغ حسن حسرت​

No comments:

Post a Comment