لے کے آئی تھی ہوا اس کی خبر شام کے بعد
لے اڑے مجھ کو مِری سوچ کر ہر شام کے بعد
سارا دن میری پرستش میں گزرا، اور پھر
کر دیا اس نے مجھے شہر بدر، شام کے بعد
شام کے بعد بھی یہ خوف ہی رہتا ہے کہ شام
اک اجالا سا چلا جاتا ہے دیوار کی اوٹ
اک اندھیرا سا اتر آتا ہے گھر شام کے بعد
میں ہر اک صبح تیرا نام پکارے جاؤں
سر جھکا دوں تِری دہلیز پہ ہر شام کے بعد
دن ڈھلے جگنو اتر آتے ہیں قرطاس پہ اور
جگمگاتا ہے مِرا دستِ ہنر، شام کے بعد
بے تحاشہ نکل آتا ہے گلی میں کوئی
اور ہو جاتا ہے دیوار میں در شام کے بعد
شام کے بعد تو مر جاتی ہیں آنکھیں ناسکؔ
اور ہو جاتے ہیں سب خواب امر شام کے بعد
اطہر ناسک
No comments:
Post a Comment