Tuesday, 20 December 2016

لے کے آئی تھی ہوا اس کی خبر شام کے بعد

لے کے آئی تھی ہوا اس کی خبر شام کے بعد
لے اڑے مجھ کو مِری سوچ کر ہر شام کے بعد
سارا دن میری پرستش میں گزرا، اور پھر
کر دیا اس نے مجھے شہر بدر، شام کے بعد
شام کے بعد بھی یہ خوف ہی رہتا ہے کہ شام
آ ہی نہ جائے کہیں بارِ دِگر، شام کے بعد
اک اجالا سا چلا جاتا ہے دیوار کی اوٹ
اک اندھیرا سا اتر آتا ہے گھر شام کے بعد
میں ہر اک صبح تیرا نام پکارے جاؤں
سر جھکا دوں تِری دہلیز پہ ہر شام کے بعد
دن ڈھلے جگنو اتر آتے ہیں قرطاس پہ اور
جگمگاتا ہے مِرا دستِ ہنر، شام کے بعد
بے تحاشہ نکل آتا ہے گلی میں کوئی
اور ہو جاتا ہے دیوار میں در شام کے بعد
شام کے بعد تو مر جاتی ہیں آنکھیں ناسکؔ
اور ہو جاتے ہیں سب خواب امر شام کے بعد

اطہر ناسک

No comments:

Post a Comment