جُھوٹا یہ پیار، اُوپری چاہت نہیں قبول
اس باب میں کوئ بھی وضاحت نہیں قبول
سادہ ہوں میں، ہے دل کو مِرے سادگی پسند
دونوں کو خود نمائی کی عادت نہیں قبول
جو چاہے نام اپنا لکھے آبِ زر کے ساتھ
اپنا ضمیر بیچ کے شہرت اگر ملے
بیٹھے گی جھاگ بن کے وہ شہرت نہیں قبول
بے شک غزل چھپے نہ چھپے، بِن لیے دِیے
مجھ کو سخن میں ایسی تجارت نہیں قبول
بہتر یہی ہے فرشِ زمیں پر رہے نشست
پیسوں سے جو ملے وہ صدارت نہیں قبول
خسرؔو، کسی کا آگے نکلنا نہیں پسند
پرچھائیں کی بھی تجھ کو قیادت نہیں قبول
فیروز ناطق خسرو
No comments:
Post a Comment