سینۂ سنگ کٹا، ٹوٹ کے پتھر رویا
بعد اک عمر کے دل خوں کا سمندر رویا
غم کا سورج مِری دہلیز پہ آ کر ٹھہرا
میرا سایہ مِری باہوں میں سمٹ کر رویا
دیکھ اب چشمِ فسوں ساز نے بھی اُگلا لہو
دیکھ کر اشک مِرے ضبط کا یارا نہ رہا
میں جو رویا، تو مِرے ساتھ مقدر رویا
رات کے پچھلے پہر تیز ہوا کا جھونکا
دیر تک پیڑ کی شاخوں سے لپٹ کر رویا
یاد آئی جو کبھی بیتے دنوں کی خسروؔ
آئینہ دیکھ کے پہروں دلِ مضطر رویا
فیروز ناطق خسرو
No comments:
Post a Comment