سمے کی شاخ سے کل شام کچھ گلاب چُنے
جو ٹھیک ٹھاک تھے رد کر دئیے، خراب چنے
یہ طے شدہ ہے میں ناکام ہوں محبت میں
سو اس کو حق دیا جائے کہ کامیاب چنے
ہمارے چار سو گریے کی فصل اُگتی ہے
سو جس کو جتنی بھی وحشت ہے دستیاب، چنے
نصابِ عشق سے بالکل الٹ سوال آئے
پھر امتحان میں ہم نے غلط جواب چنے
میں چاہتی تھی کہ کم نرخ ، چیز اچھی ہو
لہذا ڈھونڈ کے بازارِ شب سے خواب چنے
تضادِ فطرتِ دلبر نے کردیا مایوس
کہ ہم نے دشت چنا اس نے ابر و آب چنے
ہمیں چراغ تو کردے مگر خدائے کریم
ہر ایک شخص کی خواہش ہے ماہتاب چنے
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment