اے مسافر میرا کہنا یاد رکھ
لٹ نہ جائے شہر دل آباد رکھ
سوچ کو احساس پر غالب نہ کر
زندگی کو خوف سے آزاد رکھ
زندگی کی چاہتیں رعنائیاں
تو ہمیشہ اپنے دل کو شاد رکھ
ظلم کا بیوپار چل سکتا نہیں
دھیان اتنا اے ستم ایجاد رکھ
ڈھنگ آ جائے گا جینے کا تجھے
ڈوبتے سورج کا منظر یاد رکھ
میں بدل دوں گا زمانے کا مزاج
پہلے تو سچائی کی بنیاد رکھ
اختر سعیدی
No comments:
Post a Comment